ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیشنل پنتھرس پارٹی کا لکھنو میں ہنگامی اجلاس، بھیم سنگھ کی مودی سرکار کوللکار

نیشنل پنتھرس پارٹی کا لکھنو میں ہنگامی اجلاس، بھیم سنگھ کی مودی سرکار کوللکار

Sun, 17 Sep 2017 21:52:28    S.O. News Service

لکھنو، 17؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)اترپردیش کی پھر سے قائم کی گئی پنتھرس پارٹی یونٹ کی ایک ہنگامی میٹنگ میں پروفیسر بھیم سنگھ نے مودی سرکار کواترپردیش کے حالات کو سدھارنے کے لئے چیلنج کیا اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کی اتحاد و سالمیت ، بھائی چارہ اور حق وانصاف کی جنگ کو کامیاب بنانے کیلئے متحد ہوجائیں۔ نیشنل پنتھرس پارٹی کے سپریمو پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ اترپردیش قانون نظام کے نوجوانوں کے ساتھ امتیازکو مٹانے کے لئے متحد ہوجائیں جس طرح پورے ہندستان کے نوجوانوں نے آزادی کی جنگ میں کشمیر سے کنیاکماری تک ایک ساتھ ملکر جدوجہد کی تھی۔پروفیسربھیم سنگھ نے اترپردیش کے نوجوانوں کے ساتھ ملکر 1963سے لیکر 1966تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران حق و انصاف کی جنگ شروع کی تھی اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ اترپردیش کا آج کے دن ہندستان کے مستقبل کو روشن بنانے میں وہی کردار ہے جو آزادی کی جنگ میں نوجوانوں نے ادا کیا تھا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے اترپردیش کے نوجوانوں سے پر زور اپیل کی کہ وہ ریاست کے اندر انسانیت کو ہراساں کرنے والے عوام مخالف سیاسی عناصرکو متحد ہوکر شکست دیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے پورے ملک کے طلبا اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نئی نسل کو نئی سوچ کے ساتھ جوڑ کر ہندستان کے اتحاد ویکجہتی، بھائی چارہ اور سیکولرازم کی مضبوطی کے لئے ایک ساتھ ہونے کا عزم کریں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ آ ج کے سیاستداں صرف دکاندار بن کر رہ گئے ہیں اور قوم پرست ایماندار سیاسی کارکن چوراہے پر کھڑے کردےئے گئے ہیں۔حق و انصاف سے نوجوان محروم ہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے اترپردیش میں نئی قائم کی گئی لیگل ایڈ کمیٹی کے وکلا ساتھیوں سے زوردیکر کہا کہ وہ حق و انصاف کی جنگ کواپنی قلم اور آواز سے لڑنے کے لئے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں کیونکہ نیاانقلاب بندوق یا تلوار سے نہیں آئے گا بلکہ یہ آئے گا قلم سے اور آواز اٹھانے سے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے تعلق سے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگ 1947سے لیکر آج تک سیکولر مریاداوں سے وابستہ ہیں ۔ قوم پرست رہے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو آج تک انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ تب تک حل نہیں ہوسکتا جب تک پورے ملک میں ایک آئین اور ایک پرچم نہیں ہوگا، جب تک جموں وکشمیر کے لوگوں کو ہندستان کے آئین میں دےئے گئے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے اور جب تک جموں وکشمیر ہائی کورٹ ہندستانی آئین کے دائرہ میں نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ راجناتھ سنگھ جی اور منموہن سنگھ جی کے دورہ اسی طرح دریائے جھیلم میں بہہ جائیں گے جس طرح نہرو جی، اندرا جی اور باقی ہندستان کے وزرائے اعظم کی کوششیں رائیگاں چلی گئیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے پورے ملک کے نوجوانوں سے پنتھرس پارٹی کی حمایت کرنے کی اپیل کی ۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو وہی انسانی حقوق دلانے کی جدوجہدمیں ساتھ دیں جو پورے ملک باشندوں کو حاصل ہیں۔
 


Share: